آبادکاروں کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا ، بیت المقدس میں کشیدگی کا ماحول

مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب جمعرات کو اسرائیلی قابض افواج کی حمایت یافتہ مسجد اقصیٰ کے صحن پر حملہ کیا اور قابض فوج نے ایک فلسطینی خاتون کو شہید کردیا ۔

قابض افواج نے مسجد اقصیٰ کے دروازے ، نمازیوں کے لیے صبح کی نماز کے بعد بند کر دیے اور انہیں دروازوں میں داخل ہونے اور باہر جانے سے روک دیا ، جس سے فلسطینیوں میں اشتعال پھیل گیا ۔

مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر شیخ عمر الکسوانی نے کہا ہے کہ قابض پولیس نے مغربی دروازے اور مسجد اقصیٰ کے تمام دروازے صبح کی نماز کے بعد بند کرنے کے بعد کھول دیے اور آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے اور سیر کے لئے جانے کی اجازت دی ۔ اقصی کے صحنوں میں آبادکاروں کے طوفان بدتمیزی کو اسرائیلی اسپیشل فورسز نے سپورٹ کیا ہے ۔

انہوں نے زور دیا کہ قابض حکام مقبوضہ مغربی کنارے سے شناختی کارڈ رکھنے والے فلسطینیوں کو داخلے سے روکتے ہیں یہاں تک کہ اگر ان کے پاس داخلے کے اجازت نامے ہوں تو بھی اندر نہیں جانے دیا جاتا ۔

متعلقہ تناظر میں قابض افواج نے آج مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے ایک ملازم کو گرفتار کیا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض فورسز نے ملازم یزان عبدین کو مسجد کے صحن کے اندر اپنے کام کی جگہ میں داخل ہوتے ہی روک لیا اور گرفتاری سے قبل اس سے پوچھ گچھ کی ۔

مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی عروج پر ہے جب قابض فوج نے باب السیلیہ کے قریب صبح کی نماز کے بعد ایک فلسطینی خاتون پر فائرنگ کی جو ان کی شہادت کا باعث بنی اور اس کے علاوہ طلبہ کو اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنا بھی کشیدگی کا باعث ہے ۔

ایک اقصیٰ گارڈ نے وضاحت کی کہ لڑکی کو گولی مارنے کے بعد قابض فوج نے الاقصیٰ پر حملہ کیا اور اس کے تمام دروازے محدود وقت کے لیے بند کر دیے اور نمازیوں کی مسجد اقصیٰ سے نکلتے وقت تلاشی لی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles