زیلنسکی: اپنے وطن کے دفاع میں تنہا، دنیا بس دیکھ رہی ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ اپنے وطن کے دفاع میں اکیلے ہیں جب کہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک دیکھ رہے ہیں۔ آج جمعے کو یوکرائنی عوام سے خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ ہم اپنے وطن کا دفاع اپنے طور پر کرتے ہیں۔دنیا کے طاقتور ترین ممالک دور سے دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔کیا کل کی پابندیوں نے روس کو قائل کیا؟ہم انہیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے آسمان اور زمین ناکافی ہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ "روسی افواج اپنے حملوں میں سویلین اور فوجی اہداف میں فرق نہیں کرتی ہیں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس اپنے حملوں کے ذریعے یوکرین کے عوام اور ریاست پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرین کے صدر نے روسیوں کی جانب سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے کو 1941 میں نازی جرمنی کی جانب سے نشانہ بنائے جانے سے تشبیہ دی۔انھوں نے عندیہ دیا کہ جلد یا بدیر روس کو جنگ روکنے کے لیے یوکرین کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ روس یوکرین کے ساتھ بیٹھا، اس کا نقصان جتنا کم ہوگا۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles