مسلم اتحاد کا بنیادی نقطہ ، مسئلہ فلسطین ہے ، سید علی خامنہ ای

رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم اتحاد کا بنیادی نقطہ مسئلہ فلسطین ہے ۔

اسلامی اتحاد یونین کانفرنس کے مہمانوں کے استقبال کے دوران ، آج رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان دوریوں اور دشمنوں کی جانب سے ان دوریوں میں اضافے کی بلا وقفہ کوششوں کے باعث ہم بار بار اتحاد پر زور دیتے آئے ہیں ۔ آج شیعہ اور سنی کا لفظ ، امریکی سیاسی لغت اور زبان میں داخل ہوگیا ہے حالانکہ امریکہ اسلام کی بنیادوں کا مخالف اور دشمن ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نوٹ کیا کہ امریکی کرائے کے فوجی جہاں چاہیں اسلامی دنیا میں تفرقہ ڈالیں گے ۔ اس کی بہترین مثال افغانستان میں افسوسناک واقعات ہیں ۔ افغانستان کی مساجد میں مسلمانوں اور نمازیوں پر ہونے والے دردناک اور رلا دینے والے دھماکے ایسے سانحات ہیں جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے اور امریکی کھل کر اعتراف کرتے ہیں کہ داعش کو انہوں نے بنایا ہے ۔

سید علی خامنہ ای نے اتحاد اسلامی کے سالانہ اجتماعات اور کانفرنسوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے لیے دا‏ئمی کوششوں کی ضرورت ہے جس میں شیعہ اور سنی مسلمان دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں اور ایک دوسرے کی مساجد اور دیگر مذہبی مقامات اور اجتماعات میں حاضر ہوں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہم ہدف ایک نئی اسلامی تہذیب کا قیام ہے جو صرف شیعہ اور سنی کے اتحاد سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ مسلم اتحاد کا بنیادی نقطہ ، فلسطین کا مسئلہ ہے ۔ فلسطینیوں کے حقوق کی بالادستی کے لیے جتنی ٹھوس اور سنجیدہ کوششیں انجام پائیں گی اسلامی اتحاد بھی اسی قدر تقویت پائے گا ۔

رہبر معظم نے بعض ملکوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو عظیم گناہ اور بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ان حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی اتحاد کے منافی راستے کو ترک کریں اور اپنی غلطی کے ازالے کی کوشش کریں ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles