صومالیہ میں سرکاری فورسز اور مذہبی تنظیم میں مسلح تصادم ، عام شہریوں سمیت 60 افراد جانبحق

صومالیہ میں سرکاری افواج اور "اہل السنہ والجماعہ” تنظیم کے مسلح گروپ کے درمیان ملک کے وسط میں پرتشدد تصادم میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہوئے ۔

ذرائع کے مطابق ، گلمودگ ریاست (وسطی) کے علاقے گلگاڈوڈ کے شہر "جریل” میں حکومتی فورسز اور "اہل السنہ والجماعت” تنظیم کے عسکریت پسندوں کے درمیان ہفتے کے روز پرتشدد تصادم دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے دونوں اطراف کے 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 40 سے زائد زخمی افراد میں عام شہری بھی شامل تھے ۔

"اہل السنہ والجماعہ” ایک مسلح تنظیم ہے جو صوفی احکامات پر عمل کرتی ہے اور یہ 2008 میں صومالی منظر میں نمایاں ہو گئی ۔ اس نے صومالیہ کے وسطی علاقوں کو کنٹرول کیا اور یہ مرکزی علاقہ میں صومالی نوجوانوں کی تحریک سے بھی لڑ رہی ہے ۔ یہ تنظیم صومالی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتی ہے لیکن اس پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ اسے پسماندہ کر رہی ہے ۔

"اہل السنہ والجماعہ” تنظیم نے تصادم پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ داعش کے عسکریت پسند اب بھی شہر کے کچھ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں ۔

یہ عسکری محاذ آرائی اس وقت ہوئی جب "اہل السنہ والجماعہ” تنظیم کے عہدیداروں نے شہر میں اپنا اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوشش کی جسے دو سال قبل حکومتی افواج کے ہاتھوں کھو دیا تھا ۔

"جیریل” شہر نے رہائشیوں کی ایک بڑی نقل مکانی دیکھی جنہوں نے محاذ آرائیوں میں توسیع کے بعد اپنی جانوں کے خوف سے شہر کے مضافات میں پناہ لی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles