ایران اور ترکی کا سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق

ایرانی وزرائے خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ترکی کے وزیر خارجہ میولت چاوش کیوسوگلو نے ایران ، آذربائیجان اور ترکی کے درمیان تہران میں سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ۔

دونوں وزراء کے درمیان یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران دوطرفہ اور علاقائی امور بالخصوص افغانستان اور شام میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے دوران ہوا ۔

دوطرفہ سطح پر دونوں فریقوں نے ترکی کے وزیر خارجہ کے دورے کے ساتھ دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹجک کمیٹی کے انعقاد اور سپریم کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا طے کرنے پر اتفاق کیا ۔ دونوں فریقوں نے تہران میں ایران ، آذربائیجان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ۔

ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ نئی حکومت میں جمہوریہ کے پہلے نائب صدر مشترکہ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے اور اس کو اس شعبے میں سنجیدہ پیش رفت سمجھتے ہوئے اور مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے کے لیے ایران کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے جو کہ کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئیں ۔

عبداللہیان نے صدر رئیسی کی طرف سے جناب اردگان کو ایران کے دورے کی دعوت سے بھی آگاہ کیا ۔

علاقائی مسائل کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں نئی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے زیادہ باقاعدہ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ۔

افغانستان کے بارے میں امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران کا افغانستان میں تمام فریقوں سے رابطہ ہے لیکن افغانستان میں امن اور استحکام کے مستقل حل کے طور پر ایک توسیعی حکومت کی تشکیل پر زور دینا بہت ضروری ہے ۔

اپنی طرف سے ترک وزیر خارجہ نے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی مشترکہ کمیٹی کی صدارت میں نمائندگی کی سطح میں اضافے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اسسٹنٹ صدر ترکی کے لیے کمیٹی کے ذمہ دار ہوں گے ۔ کیوسوگلو نے اسلامی جمہوریہ پر عائد پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیاں اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

ترک وزیر خارجہ نے تہران میں سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ مشاورت دوبارہ شروع کرنے کے لیے جلد سے جلد موقع پر تہران کا سفر کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

علاقائی مسائل پر ترک وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ علاقائی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں افغانستان بھی شامل ہے جس کے لیے قریبی مشاورت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے افغانستان میں ایک وسیع اور جامع حکومت بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس ملک میں تشدد اور انتہا پسندی کے خطرناک اضافے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ۔

واضح رہے کہ دونوں فریقین ترکی کے وزیر داخلہ اور انصاف کے دورہ ایران کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بھی متفق تھے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles