افغانستان دہشتگردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہو رہا ہے ، نیٹو

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان ایک "دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ” میں تبدیل ہو رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ وہ انہیں ملک سے باہر سے نشانہ بنائے گا ۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے طالبان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو یقینی بنائیں اور تحریک کی اقتدار میں واپسی کو افغان عوام کے لیے افسوسناک معاملہ قرار دیا ۔

سٹولٹن برگ نے کہا کہ اسے تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہم نے افغانستان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ہمارا مشن بیکار نہیں گیا ۔ ہم نے افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روک دیا ہے اور ہم نے اپنے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی حملے کو روکا ہے ۔ اب طالبان کی نئی حکومت دہشت گردی کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے چوکس رہے ۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ افغانستان میں انخلاء کے تجربے نے ظاہر کیا کہ نیٹو اتحادی مل کر کام کر سکتے ہیں ۔ افغانستان پر آج کی بات چیت کا مقصد سبق سیکھنا تھا ۔

نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس کا کام جمعرات کی صبح بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں شروع ہوا ۔ مذکورہ اجلاس میں افغانستان میں پیش رفت ، روس کے ساتھ تعلقات ، انسداد دہشت گردی ، چین کے عروج اور یورپی یونین اتحاد کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles