تہران میں مصطفی (ص) ایوارڈ کی تقسیم ، پاکستانی سائنسدان بھی فاتحین میں شامل

مصطفی ایوارڈ فاؤنڈیشن (پی بی یو ایچ) نے تہران میں ایرانی صدر کے معاون برائے سائنس و ٹیکنالوجی ، سورنا ستاری کی موجودگی میں اپنے چوتھے سیشن میں مصطفی (ص) ایوارڈ برائے سائنس و ٹیکنالوجی تقسیم کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا ۔ اس تقریب میں ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سابق سربراہ علی اکبر صالحی اور وزیر سائنس ، تحقیق اور ٹیکنالوجی محمد علی زلفی ، عراق کے سابق وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور 15 ممالک کے 50 علماء اور نامور شخصیات شریک تھی ۔

لبنانی پروفیسر محمد صائغ شعبہ بایئو میڈیکل ٹیکنالوجی ، مراکشی پروفیسر یحیی تعیلاتی نظریاتی طبیعیات اور ایٹم کے شعبے میں ، پاکستانی پروفیسر اقبال چوہدری ماحولیاتی نامیاتی کیمسٹری کے شعبے میں ، ایرانی پروفیسر کامران وفا اور بنگلہ دیشی پروفیسر زاہد حسن عوامی میدان میں جیتنے والوں میں شامل ہیں ۔

پہلی بار لبنانی مصور معین شریف نے ایوارڈ تقسیم فیسٹیول میں پیغمبر اکرم (ص) کے لیے خصوصی نعت کے ذریعے شرکت کی ۔

بتایا گیا ہے کہ 2019 میں مصطفی (ص) سائنسی انعام کے پچھلی دفعہ یہ ایوارڈ ممتاز ترک مسلمان سائنسدان اوگور ساہن نے جیتا جس نے میسنجر آر این اے ، ایم آر این اے کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئے آئیڈیا کی بنیاد پر کورونا کے خلاف "فائزر” ویکسین ایجاد کی ۔

مصطفیٰ (ص) ایوارڈ اسلامی دینا میں نوبل پرائز کی طرح ہے جو اپنے خیال اور ساخت کا علمبردار سمجھا جاتا ہے ۔ اس ایوارڈ کا مقصد اسلامی دنیا میں شاندار سائنسی اور تکنیکی منصوبوں اور اختراعات کو متعارف کرانا اور ان کے مالکان کی عزت کرنا ہے ۔ ان سب کا مقصد سائنسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور اسلامی دنیا کے ممالک میں سائنسی اور تحقیقی برادری میں تخلیقی صلاحیتوں کے جذبے کو پھیلانا ہے ۔

مصطفی (ص) انعام چار شعبوں میں دیا جاتا ہے جس میں "نینو سائنس اور ٹیکنالوجی” ، "بائیو میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی” ، "مواصلات اور انفارمیشن سائنس اور ٹیکنالوجی” اور "سائنس اور ٹیکنالوجی کے تمام شعبے” شامل ہیں ۔ مکمل ہونے والے منصوبوں کی تعریف میں انہیں ایوارڈ کے لیے سرٹیفکیٹ ، میموریل شیلڈز اور تمغے دیئے جاتے ہیں ۔ یہ قابل ذکر ہے کہ ایوارڈ کی قیمت اوقاف اور دیگر عطیہ دہندگان اور معاونین کی طرف سے احاطہ کی جاتی ہے ۔

اس ایوارڈ کو 2012 میں بین الاقوامی سطح پر سائنسی مہارت کی علامت کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور اسے مسلم دنیا کا نوبیل انعام سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، لبنان اور مراکش کے پانچ سائنسدانوں کو ان کے متعلقہ شعبوں میں مذکورہ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ایوارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق ہر شعبے میں ایوارڈ جیتنے والے کو 5 لاکھ ڈالر کا ایوارڈ، سرٹیفکیٹ اور میڈل دیا گیا ہے ۔

جہاں تک پاکستانی سائنسدان کی بات ہے ، جامعہ کراچی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری عالمی شہرت یافتہ ادویات کے کیمسٹ ہیں ۔ بین الاقوامی جرائد میں نامیاتی اور جیو نامیاتی کیمسٹری کے شعبوں میں ان کے ایک ہزار 175 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں ۔ وہ اس موضوع پر 76 مقالے اور 40 ابواب بڑے امریکی اور یورپی پریس کی شائع کردہ کتب میں شائع ہو چکے ہیں جبکہ وہ اب تک 40 امریکی پیٹنٹ بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر اقبال کے کام کو دنیا بھر کے محققین نے 27 ہزار 407 بار نقل کیا ہے اور ان کا ایچ انڈیکس 70 ہے جبکہ اب تک 94 مقامی اور بین الاقوامی اسکالرز نے ان کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کی ہیں ۔ پی ایچ ڈی ، ڈی ایس سی اور سی کیم کی ڈگریوں کے حامل ڈاکٹر اقبال مختلف پاکستانی حکومتیں ہلال امتیاز ، ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہیں ۔

وہ معروف اکیڈمیوں کے فیلو بھی رہ چکے ہیں جن میں اکیڈمی آف سائنسز فار دی ڈیولپنگ ورلڈ، اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز ، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز ، رائل سوسائٹی آف کیمسٹری اور کیمیکل سوسائٹی آف پاکستان شامل ہیں ۔ پروفیسر اقبال کو اس سے قبل ایران کے صدر نے خوارزمی بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا تھا ۔ آذربائیجان کے صدر نے تعلیم کے شعبے میں آئی سی او ایوارڈ دیا تھا اور پاکستان کے وزیر اعظم نے کیمسٹری میں کامسٹیک ایوارڈ دیا تھا ۔ انہیں 2004 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ممتاز قومی پروفیسر اور 2013 میں جامعہ کراچی کی جانب سے قابل پروفیسر کا اعزاز دیا گیا تھا ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles