روس کے میزائل و ایٹمی ہتھیار ، نیٹو کے لیے خطرہ ہیں ، سٹولٹن برگ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے روس کا نیٹو اتحاد سے اپنا مشن معطل کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے میزائل اور ایٹمی ہتھیار ، نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ ہیں ۔

اسٹولٹن برگ نے بدھ کے روز برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ روس کا اپنے مشن کا کام معطل کرنے کا فیصلہ ، دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت اور افہام و تفہیم کے مفاد میں نہیں ہے جبکہ نیٹو ہروقت بات چیت کے لیے تیار ہے ۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو اور روس کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے بعد سے اپنی نچلی ترین سطح پر بگڑ چکے ہیں اور انہوں نے اس کے لیے ماسکو کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ انہوں نے ماسکو پر اپنے پڑوسیوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے ، جمہوری عمل میں مداخلت اور جارحانہ رویے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ۔

اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا کہ 2018 سے روس نے اپنے میزائل و اسلحہ خانے میں اضافہ کیا ہے اور ہائپرسونک میزائل تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جو کہ "یورو بحر اوقیانوس کے علاقے میں سکیورٹی کے لیے حقیقی خطرہ ہے ۔ نیٹو کے وزرائے دفاع اپنی اگلی میٹنگ کے دوران جوہری وار ہیڈز لے جانے والے روسی میزائل سسٹمز کی طرف سے درپیش چیلنج کا جواب دینے میں پیش رفت کی تعریف کریں گے ۔ ہم روسی کاروائیوں کا جواب نہیں دیں گے بلکہ ہم مزاحمت کو برقرار رکھیں گے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اعلیٰ سطح پر رکھیں گے ۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ انہوں نے اسی وقت یہ بھی واضح کیا کہ وہ نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے بات نہیں کر سکتے ۔

اتحاد کے سیکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کے وزرائے دفاع اپنی مکمل میٹنگ میں ان "اسباق” پر بات کریں گے جو اتحاد نے افغانستان میں حالیہ واقعات سے سیکھا ہے جہاں "طالبان” تحریک اقتدار میں واپس آئی ہے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اتحاد روسی ہائپرسونک میزائلوں کو روکنے کے لیے خلائی نظام استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا ہمارا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن میں اتحادی ممالک کی جانب سے انفرادی بات نہیں کر سکتا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں عام طور پر کہوں گا کہ نیٹو اپنی فوجی صلاحیتوں کو ڈھال رہا ہے اور ترقی دے رہا ہے اور نئی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہائپرسونک میزائلوں سمیت کسی بھی خطرے سے اپنا دفاع کر سکے ۔ ہم یہ مختلف طریقوں سے کرتے ہیں اور ہم خلا میں کام کو بھی زندہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے مواصلاتی نظام اور میزائل لانچ ، فالو اپ اور جاسوسی کی نگرانی کے لیے ہماری صلاحیتوں کے لیے بہت ضروری ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles