امداد اور معاشی سرگرمیوں کی بندش ، افغانستان میں غربت کا بحران شدت اختیار کر گیا

گزشتہ ماہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کو غربت کے بحران کا سامنا ہے ۔ امداد میں رکاوٹ ، حکومتی ملازمین اور امدادی کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کی ملک سے ہجرت نے اس بحران اور بیشتر اقتصادی تباہی کو بڑھایا ہے ۔

رواں ہفتے افغانستان کے لیے ایک بین الاقوامی امدادی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا کہ افغانوں کو ‘انتہائی خطرناک وقت‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپپو گرانڈی نے کہا کہ افغانستان کو اپنے انسانی بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی برادری کی فوری اور مسلسل مدد کی ضرورت ہے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے ۔ گرانڈی نے جنوبی ایشیائی ملک کے تین روزہ دورے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں انسانی صورت حال تشویشناک ہے ۔ اگر عوامی خدمات اور معیشت ٹوٹ جاتی ہے تو ہم ملک کے اندر اور باہر زیادہ تکلیف ، عدم استحکام اور نقل مکانی دیکھیں گے ۔

گرانڈی نے کہا کہ گزشتہ ماہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی 18 ملین سے زائد افغانی یا تقریبا نصف آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت تھی ۔ خشک سالی اورکورونا وبائی مرض سے لڑنے والے ملک میں پہلے ہی 3.5 ملین سے زائد افغان بے گھر ہو چکے ہیں ۔ کانفرنس میں عطیہ دہندگان نے افغانستان کی مدد کے لیے 1.1 بلین ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles