ہسپانوی جزیرے لا پالما میں آتش فشاں پھٹ پڑا ، ہزاروں افراد کا انخلا

ہسپانوی حکام نے لا پالما کے کینری جزیرے کے دیہاتوں سے تقریبا 5،000 ہزار افراد کو نکال لیا ہے ۔ اتوار کے روز آتش فشاں پھٹنے کے بعد لاوا تقریبا 15 میٹر تک بلند ہوا ۔

لاوا اب تک الپاسو گاؤں میں 20 گھروں کو نگل چکا ہے اور اب قریبی گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں اس سے سیکڑوں دیگر گھروں کو خطرہ ہے ۔ اسپین میں مقامی حکام نے بتایا کہ حکام نے لا پلما کے کینری جزیرے پر لاوہ بہنے کی وجہ سے تقریبا 5،000 ہزار افراد کا انخلا کر لیا ہے ۔

کینری جزائر کے مقامی صدر اینجل پکٹر ٹوریس نے کہا کہ مزید انخلاء کی ضرورت نہیں ہے ۔ لاوا ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے نقصان مادی ہو گا ۔ ہلاکتوں یا زخمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

میئر سرجیو روڈریگز نے پیر کی صبح ٹی وی ای ریڈیو کو بتایا کہ 15 میٹر اونچے لاوا دھماکے نے اب تک الپاسو گاؤں اور سڑکوں کے حصوں میں 20 گھروں کو نگل لیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاوا اب قریبی گاؤں کی طرف پھیل رہا ہے جس سے سیکڑوں گھروں کو خطرہ ہے ۔ ہم لاوا کا راستہ دیکھ رہے ہیں ۔ آتش فشاں اتوار کی سہ پہر پھٹ پڑا جس نے لاوہ اور میگما کو سینکڑوں میٹر ہوا میں پھینکا اور بحر اوقیانوس میں لا پالما کے ایک کم آبادی والے علاقے پر بہایا ، یہ جزیرہ کینری جزیرے کے شمال مغربی سرے پر واقع ہے ۔

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اتوار کی شام لا پالما پہنچے تاکہ جزیروں کی حکومت سے آتشزدگی سے نمٹنے کے اقدامات پر بات چیت کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے پاس تمام وسائل اور تمام قوتیں ہیں ۔ ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ اسپین کے کینیری جزائر کی فضائی حدود پروازوں کیلئے کھلی ہوئی ہیں اور حکام نے لا پالما جزیرے پر سیاحوں کی آمد کو بھی ابھی تک معطل نہیں کیا ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles