میرے بیٹے کی گرفتاری ، اختتام نہیں ہے ، فواد کممجی

قیدی ایہم کممجی کے والد فواد کممجی نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی دوبارہ گرفتاری اختتام نہیں ہے اور یہ کہ ہماری بہادر مزاحمت لکھے گی ختم شد ۔

کممجی نے واضح کیا کہ فلسطینی مزاحمت اپنا آخری لفظ کہے گی اور اس کے بیٹے ، اس کے ساتھیوں اور تمام قیدیوں کو جیلوں سے آزاد کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ایہام نے مجھے صبح تقریبا 1:45 پر فون کیا اور مجھے بتایا کہ وہ جینین کے مشرقی محلے میں ہے اور وہ قابض فوج کے محاصرہ میں ہے ۔ وہ جس گھر میں تھا ، اس کے مکینوں کی حفاظت کے لئے اس نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔

کممجی نے نشاندہی کی کہ ان کے خاندان نے سوشل میڈیا کے ذریعے گرفتاری کے عمل کی پیروی کی ۔ قابض افواج کی فائرنگ سے ہمیں اس کے زخمی ہونے یا یہاں تک کہ اس کی موت کا اندیشہ تھا لیکن جب اس کی گرفتاری کی خبر میڈیا پر نشر کی گئی تو ہمیں سکون ملا ۔”

کممجی نے بتایا کہ جب ان کے بیٹے ایہم نے ان سے بات کی تو اس کی آواز میں اعتماد تھا ، اس کے حوصلے بلند اور آواز پرسکون تھی ۔انہوں نے اس کی زندگی یا کسی بھی قسم کی بدقسمتی کے لیے پیشہ کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ۔

انہوں نے مزید کہا ہے جب سے ان کے خاندان نے ان کے بیٹے سمیت چھ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں سنا تو سب میں ایک خوشی کا احساس ہونے کے علاوہ ان کے انجانے مستقبل کا خوف بھی تھا ۔ رہائی پانے والے قیدیوں کے مسئلے میں وسیع پیمانے پر عوامی اور گروہی حمایت نے قیدیوں کے خاندانوں کے حوصلے بلند کیے ۔ اس بات پر زور دیا کہ ان میں سے کوئی بھی صرف اس کا بیٹا نہیں بلکہ پورے فلسطینی عوام کا بیٹا ہے ۔

اس نے نشاندہی کی کہ اس کا بیٹا 2003 میں شہادت کا ایک بہادر آپریشن سر انجام دینے گیا تھا لیکن گاڑی میں خرابی نے اس وقت آپریشن کو ناکام بنا دیا ۔ قابض افواج کا تعاقب اس کی گرفتاری تک جاری رہا ۔ وہ ڈیڑھ سال تک جیریکو جیل میں رہا جب تک کہ اسے جیل سے فرار ہونے میں کامیاب نہیں ملی ۔ اسے ڈیڑھ سال بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس دوران متعدد بار اسے قتل کی کوششیں بھی کی گئی ۔

2006 میں قابض افواج نے اسے البالوع میں پریوینٹیو سیکورٹی ہیڈ کوارٹر سے گرفتار کیا ۔ گرفتاری کے بعد اسے ایک آباد کار کے اغوا اور قتل میں عمر قید کی سزا سنائی ۔

کممجی نے مزید کہا کہ ایہم قابض ادارے میں موجود تمام کمک اور ٹیکنالوجی کے باوجود جینین تک پہنچنے میں کامیاب رہا ۔ مجھے یقین تھا کہ ایہم بحفاظت پہنچ گیا لیکن میں فوج کی آمد سے بہت حیران ہوا ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ دو ہفتے جیل کی دیواروں کے باہر رہا ۔

قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع جلبوع جیل سے چھ فلسطینی قیدی سرنگ کھود کر افسانوی طور پر آزاد ہونے میں کامیاب ہوئے جن میں سے 4 قیدیوں کو 11 ستمبر کو اور باقی 2 کو 19 ستمبر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ۔ ان قیدیوں میں 5 کا تعلق اسلامی جہاد اور ایک کا تعلق فتح تحریک سے ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles