ویانا مذاکرات میں پابندیوں کی منسوخی اور جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق دو نئی دستاویزات طے پاگئیں۔

چیف ایرانی مذاکرات کار علی باقری کنی نے تصدیق کی ہے کہ ویانا مذاکرات میں پابندیوں کی منسوخی اور جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے دو نئی دستاویزات سامنے آئی ہیں۔جمعے کے روز جوہری معاہدے سے متعلق مشترکہ کمیٹی کے حتمی اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیوں کو دیئے گئے ایک بیان میں باقری نے اشارہ دیا کہ ایران میں نئی ​​حکومت کے قیام اور نئی مذاکراتی ٹیم کی تقرری کے بعد ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں ہونا ضروری ہے۔ ویانا مذاکرات میں نئی ​​حکومت کے خیالات اور موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔باقری نے مزید کہا کہ اس بنیاد پر مذاکرات کے پچھلے چھ دوروں کے مسودوں میں ایرانی ٹیم کے موقف، نقطہ نظر اور ترامیم شامل ہیں اور انہیں مذاکراتی دستاویزات میں شامل کرکے دوسرے فریقوں کو پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں دو دستاویزات اہمیت حاصل کر رہی ہیں جن میں سے ایک پابندی کے خاتمے سے متعلق ہے جو کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کی ترجیحات اور ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ترجیح کا تعلق صرف ایرانی فریق سے نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت دیگر فریقین مثلاً چین کے بیانات سے ظاہر ہوتی ہے جس میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اس کی ترجیح اسلامی جمہوریہ ایران کی ترجیحات کے مطابق ہے پابندی انہوں نے نوٹ کیا کہ اس بنیاد کے مطابق، ترمیم کی گئی تھی، اور پابندی کو منسوخ کرنے اور اسے دوسرے فریق کے سامنے پیش کرنے سے متعلق دستاویز میں نئی ​​مذاکراتی ٹیم کے وژن کو شامل کیا گیا تھا، اس طرح پابندی کی منسوخی پر بات چیت کے لیے ایک نیا فریم ورک تیار کیا گیا تھا۔ جوہری معاہدے سے متعلق مشترکہ کمیٹی نے کل بروز جمعہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے کوبرگ ہوٹل میں ایران، 4+1 گروپ اور یورپی یونین کے نمائندوں کی موجودگی میں مذاکرات کا ساتواں دور اختتام پذیر ہوا۔ 27 دسمبر کو دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔

© Unews Press Agency 2021

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles