ہیرو قیدی محمود العارضہ نے اپنی والدہ کو پیغام میں کیا کہا

قیدی محمود العارضہ جنہیں ہائی سکیورٹی اسرائیلی جیل جلبوع سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا ، نے اپنے وکیل راسلان محاجنہ کے ذریعے اپنی والدہ کو ایک پیغام بھیجا ۔

العارضہ کے پیغام کا متن فلسطینی قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور اتھارٹی نے شائع کیا ہے ۔

انہوں نے اپنے پیغام میں سلام کے بعد کہا کہ میری ماں ، میں نے اس دنیا سے جانے سے پہلے آپ کو گلے لگانے کی کوشش کی لیکن اللہ نے ہمارے لیے دوسرا فیصلہ کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ میرے دل و دماغ اور روح میں ہیں ۔ میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ میں نے ملک کی لمبائی میں سفر کیا ۔ انار اور انجیر کھایا اور میں نے احسان ، سماک اور جنگلی تائیم کھایا ۔ میں نے 25 سال کی محرومی کے بعد امرود کھایا ۔ میری جیب میں آپ کے لیے شہد کا ایک ڈبہ بطور تحفہ موجود تھا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں فلسطین کے پہاڑوں پر لمبے میدانوں اور ناصرہ سے گزرا ہوں اور میں نے دیکھا کہ دنیا بدل گئی ہے اور آزادی کی ہوا چل رہی ہے ۔

آخر میں محمود العارضہ نے کہا کہ تمام خاندان اور دوستوں کو سلام ۔ میری بہن کی بیٹی اوہات کو سلام ۔ میں اسے بہت یاد کرتا ہوں اور میں اسے تمام کہانی بھیجوں گا ۔

قبل ازیں ، اسیر محمود العارضہ کی 73 سالہ والدہ فتحیہ العارضہ نے اپنے بیٹے کے کیے پر فخر کا اظہار کیا ۔

یاد رہے کہ کہ 6 اگست کو جلبوع جیل میں چھ قیدی ، یہ سب شمالی مغربی کنارے کی جینن گورنریٹ کے ہیں ، اپنے سیل کے اندر سے کھودی گئی سرنگ کے ذریعے جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ ان میں محمود العارضہ سمیت 4 قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ قابض صہیونی حکام دو دیگر قیدی مناضل نفيعات اور ایہام کمجی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

واضح رہے کہ 46 سالہ محمود عبداللہ عارضہ جو جنین کے علاقے عرابہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کو 1996میں حراست میں لیا گیا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles