رئیسی کا کابل میں جامع حکومت سازی کا دوبارہ مطالبہ

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے افغانستان میں تمام فریقوں پر مشتمل ایک جامع حکومت بنانے کے اپنے ملک کے مطالبے کی تجدید کی ۔ ایشیا میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ایک ضرورت ہے ۔

سید رئیسی نے دوشنبے میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں کہا ہے کہ تہران افغانوں کو اپنے ملک کی تعمیر نو اور ایک جامع حکومت بنانے کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جہاں ایک ایسی حکومت جس میں تمام دھارے اور قومیتیں شامل ہوں ، تشکیل دیا جانا چاہئے ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں غیر ملکی مداخلت نے پیچیدگیوں میں اضافہ کیا جبکہ خطے کی سلامتی بغیر کسی غیر ملکی مداخلت کے حاصل کی جا سکتی ہے ۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ خطے میں ثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ بین الاقوامی نظام دنیا میں کثرتیت اور یکطرفہ بالادستی کی طرف جا رہا ہے ۔ موجودہ وقت میں بین الاقوامی نظام کو کئی بحران درپیش ہیں جو اکیلے حل نہیں ہو سکتے ۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران یوریشیا کے لیے ایک کوریڈور کے ذریعے شمال کو جنوب سے جوڑ سکتا ہے ۔

اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ معاشی دہشت گردی علاقائی ترقی کی بنیادی رکاوٹ ہے ۔ انہوں نے اجلاس میں شریک سربراہوں سے کہا کہ ایران چار دہائیوں کی معاشی دہشت گردی سہنے کے بعد مغربی ایشیا میں انصاف اور امن کے حصول میں قیمتی تجربہ رکھتا ہے ۔

جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایرانی صدر نے شنگھائی سربراہ اجلاس کو بتایا کہ تہران نتیجہ خیز مذاکرات کی تلاش میں ہے اور مذاکرات برائے مذاکرات نہیں چاہتا ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles