عدن میں پرتشدد مظاہرے ، 5 یمنی شہید متعدد زخمی

مقامی یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ فورسز اور جنوبی یمن کے علاقے خرماکسار ، عدن میں بندوق برداروں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں 5 شہری شہید ہو گئے ہیں ۔

عدن شہر کے لوگوں نے امارت کی حمایت یافتہ عبوری کونسل کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج میں شہید ہونے والے پہلے شخص کو دفن کیا جبکہ ایک اور شخص حضر الموت گورنریٹ میں مارا گیا جس سے شہادتوں کی تعداد پانچ شہریوں تک پہنچ گئی ۔

عدن میں سوگواروں نے 28 سالہ زیاد ظہیر کی لاش دفن کر دی جنہیں عبوری کونسل سے وابستہ فورسز نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا جبکہ 5 دیگر افراد جمعرات کی شام زخمی ہوئے ۔

سوگواروں نے مطالبہ کیا کہ سعودی اتحاد اور اس کی افواج کے زیر کنٹرول علاقوں میں زندگی اور سروس کے حالات کی خرابی کو روکنے اور احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف جبر کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں ۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ کریٹر اور التوحی شہروں میں مظاہروں کی تجدید کی گئی جہاں شرکاء نے اقتصادی حالات میں اصلاحات ، قیمتوں پر قابو پانے اور مقامی کرنسی کی بگاڑ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نعرے لگائے ۔

یمن کے ایک طبی ذرائع نے بتایا کہ مشرقی یمن کے شہر حضر الموت میں احتجاجی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرے کو منتشر کرنے کے دوران فورسز نے ایک شہری کو گولی مار کر شہید کردیا ۔

سعودی اتحاد سے وابستہ حضر الموت کے گورنر فراج البحسانی نے شام آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک گورنریٹ میں جزوی کرفیو کا اعلان کیا ۔

اس تناظر میں یمن میں برطانیہ ، امریکہ ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے یمنی ریال کی قدر میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے یمنی معیشت اور انسانی صورت حال پر اس کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ۔

ریاض میں اپنی ملاقات کے دوران چاروں سفیروں نے حکومت سے سبکدوش ہونے والے صدر عبد ربو منصور ہادی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاشی استحکام کے حصول کے لیے ضروری اقدامات کریں ۔

سفیروں نے ریاض معاہدے کو نافذ کرنے ، حکومت کی عدن میں واپسی اور سیاسی حل کے عزم پر زور دیا ۔

یمنی ریال کی تاریخ میں بے مثال تنزلی کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد کئی جنوبی گورنریٹس نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک احتجاج کیا ۔ ایک امریکی ڈالر کی قیمت ہزار یمنی ریال سے تجاوز کر گئی ۔

مقامی کرنسی کے زوال کے ساتھ آبادی کی تکلیف بڑھ گئی ۔ بہت سے گروہوں کی تنخواہوں کی قیمت 100 ڈالر سے کم کے برابر پہنچ گئی ۔

واضح رہے کہ تقریبا سات سالوں سے یمن سعودی اتحاد کی مسلط کردہ جنگ اور محاصرے دیکھ رہا ہے جس نے دسیوں ہزار افراد کو ہلاک کیا ۔ بدترین انسانی بحران میں اقوام متحدہ کے مطابق ، یمنی آبادی کا 80 فیصد تقریبا 30 ملین افراد کو زندہ رہنے کے لیے امداد پر منحصر ہیں ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles