شنگھائی تعاون تنظیم کا اکیسواں سربراہی اجلاس

شنگھائی تعاون تنظیم کا اکیسواں سربراہی اجلاس آج تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شروع ہوا جس میں مستقل رکن ممالک اور مبصرین نے شرکی کی۔ اس اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بطور مبصر شامل ہیں ۔

سید رئیسی جو ایک اعلیٰ سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کے ہمراہ تھے ، نے سربراہ اجلاس میں شرکت کی اور شریک وفود کے سربراہوں اور عہدیداروں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں ۔

اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی گزشتہ بیس سالوں کی سرگرمیوں کے اہم نتائج اور تنظیم کے اندر کثیر الجہتی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔

شنگھائی سربراہی اجلاس کے شرکاء مختلف مسائل پر بھی تبادلہ خیال کریں گے جن میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون اور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تنظیم کے اندر مشترکہ اقدامات شامل ہیں ۔

توقع ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے رہنما تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت قبول کرنے اور مصر ، قطر اور سعودی عرب کو ڈائیلاگ پارٹنر کا عہدہ دینے کے عمل پر کوئی فیصلہ کریں گے ۔ ایران نے مستقل رکنیت کے لیے 2006 اور 2015 میں درخواست دی تھی ۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد شنگھائی میں 1996 میں روس ، چین ، قازقستان ، کرغزستان اور تاجکستان کے صدور کی موجودگی میں رکھی گئی تھی ۔

افغانستان ، منگولیا اور بیلاروس اس وقت تنظیم کے مبصر رکن ممالک ہیں جبکہ آرمینیا ، جمہوریہ آذربائیجان ، نیپال ، کمبوڈیا ، ترکی اور سری لنکا کے ممالک نے 2015 میں تنظیم میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی تھی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles