بیروت بندرگاہ دھماکہ کیس ، سابق وزیر کے وارنٹ گرفتاری جاری

آج بیروت بندرگاہ دھماکہ کیس کےجج طارق البیطار نے لبنان کے سابق وزیر ورکس یوسف فینانوس کی غیر حاضری پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جو کہ آج ہونے والے تفتیشی سماعت سے غیر حاضر تھے ۔

جج طارق البیطار نے سیشن کے آغاز میں فینانوس کے وکیلوں نازی الخوری ، ٹونی فرانگیہ اور ذاتی پراسیکیوٹرز کی موجودگی میں فینیانوس کی طرف سے پیش کردہ باضابطہ دفاع کو مسترد کر دیا اور اس پر غور کیا کہ سابق وزیر کو سیشن کی تاریخ سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا اور انہوں نے پوچھ گچھ کے لیے پیش ہونے سے جان بوجھ کر گریز کیا ۔

قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو البیطار نے سابق وزیر اعظم حسن دیاب کے خلاف ایک مدعا علیہ کی حیثیت سے تفتیشی سیشن سے غیر حاضری کی وجہ سے ایک مقدمہ جاری کیا تھا ۔

بیروت پورٹ دھماکے کی تباہی کے پس منظر میں دیاب اور فینیانوس کو غفلت برتنے ، سینکڑوں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے الزامات کا سامنا ہے ۔

یاد رہے کہ 4 اگست 2020 کو بیروت کی بندرگاہ میں ایک دھماکہ ہوا جس میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ، تقریبا 6،500 دیگر زخمی ہوئے ۔ اس دھماکے کی وجہ سے ہزاروں بے گھر ہوئے کیونکہ تقریبا آدھا شہر تباہ ہو گیا تھا ۔ اس دھماکے کے نتیجے میں تقریبا 7.4 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles