پرامن مظاہرین پر فائرنگ سے بیروت میں کشیدگی

آج بیروت میں سخت کشیدگی دیکھی جا رہی ہے ۔ کشیدگی کا محرک تفتیشی جج کو ہٹانے کے لیے احتجاج ہے جو گذشتہ برس بیروت بندرگاہ میں ہونے والے تباہ کن دھماکوں کے تحقیقات کررہے ہیں جب کہ انہیں ہٹانے کے لیے حزب اللہ اور ’امل‘ تحریک سراپا احتجاج ہیں ۔

فوج نے ٹوئٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ فوج نے فوری طور پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اس کے قریبی اور داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ علاقے میں گشت جاری ہے اور فائرنگ کرنے والے افراد کی تلاش جاری ہے ۔ اس کے بعد فوج نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی کو فائرنگ کرتے دیکھا گیا تو فوج بھی فائر کھول دے گی ۔ انہوں نے عام شہریوں سے علاقہ خالی کرنے کا بھی کہا ہے ۔

بیروت میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب بندرگاہ دھماکے میں تفتیشی جج کے خلاف منصوبہ بند احتجاج کے مقام پر جانے والے مظاہرین پر سنائپروں نے فائرنگ کی ۔

پرامن مظاہرین پر سنائپروں کی فائرنگ سے ایک شہید اور نو زخمی ہو گئے ۔ فوج بدارو اسٹریٹ پر ایک سنائپر کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔

لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بیروت میں حساس مقامات پرایک حساس وقت میں کشیدگی تشویش کا باعث ہے ۔

بیروت میں گذشتہ سال بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کرنے والوں میں شامل کلیدی تحقیقاتی افسر جج طارق بیطار کو ہٹانے کا مطالبے کرنے کے لیے حزب اللہ اور امل تحریک کی ریلی پر فائرنگ ہوئی ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles