مقامی طالبان سے علاقہ خالی کرنے کے احکامات موصول ہوئے ، ہزارہ برادری

افغان ہزارہ برادری نے کہا ہے کہ دایکندی صوبے میں مقامی طالبان ، ہزارہ برادری کو خاندانوں کو نکالنے کا حکم دے کر صوبے کے کچھ حصے چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔

ہزارہ کی ویڈیوز وسطی افغانستان کے ضلع جیزاب سے منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جہاں کے رہائشیوں نے بتایا کہ ڈپٹی گورنر جومہور خان جو پشتون نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں (جس سے طالبان کا تعلق ہے) نے انہیں نو دن دیے کہ وہ اپنے علاقوں کو خالی کر کے مقامی پشتونوں کے حوالے کر دیں ۔

مقامی باشندوں کے مطابق ہزارہ برادری کے تقریبا 100 خاندان اس علاقے میں 40 سالوں سے رہتے ہیں ۔ اس دوران کسی فرد یا حکومتی اہلکار نے ان پر حملہ نہیں کیا یا دعویٰ کیا کہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے ۔

لیکن حال ہی میں جومہور خان اور ظاہر خان تیموری نامی ایک مقامی طاقتور دونوں نے بار بار انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں جن میں خاندانوں کو علاقہ چھوڑنے کی ضرورت ہے اور انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر زبردستی ملک بدری سے انکار کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے ۔

ویڈیوز میں مقامی باشندوں نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقے میں ایک وفد بھیجیں تاکہ اس کیس کی تفتیش کی جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس معاملے کو قانونی ذرائع سے حل کیا جائے ۔

دوسری جانب صوبائی پولیس سربراہ نے کہا کہ وہ اس واقعے سے آگاہ نہیں اور یقین دہانی کرائی کہ کسی کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles