تعلقات میں استحکام کے لئے ایرانی وفد کا دورہ اسلام آباد

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ عسکری اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید ترقی کرے گا ۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے نور خان ہوائی اڈے پر جنرل باقری نے نشاندہی کی کہ پاکستانی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرحدوں کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں معاملات اور اس کے اثرات شامل ہوں گے ۔

احمد امیری آبادی فرحانی کی سربراہی میں ایرانی پارلیمانی وفد پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کر رہا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور پارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔

ایران پاکستان امور کے ماہر قمر جعفری نے کہا ہے کہ ایرانی وفد نے پاکستانی حکام کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش اور ان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فعال کرنے کے طریقوں پر بات چیت کی ۔ خاص طور پر کیونکہ ان کو جوڑنے والی طویل زمینی سرحدیں ہیں اور پاکستانی و ایرانی عوام آپس میں برادرانہ رشتے سے منسلک ہیں ۔

ایرانی وفد نے کئی فائلوں پر پاکستانی قیادت کے ساتھ وسیع ملاقاتوں کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ سے ملاقات اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات بھی شامل تھی ۔

پاکستانی صحافی نادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت قدیم ہیں لیکن امریکی دباؤ ہمیشہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے ۔ لیکن اب افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد منظر نامہ بدل گیا ہے اور میرے خیال میں اب ان تعلقات کو استوار کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کا بہترین وقت ہے ۔

نئی ایرانی حکومت کی ہر سطح پر اس کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے ساتھ دونوں ممالک کی پارلیمنٹ اور حکومتوں کے درمیان تعلقات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں نمایاں دو طرفہ اور علاقائی فائلوں میں خاص طور پر افغان مسئلہ اور مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے اور ہم آہنگی حاصل ہوئی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles