طائر کے برج الشمالی کیمپ میں دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں

کچھ دیر قبل جنوبی لبنان کے شہر طائر کے نزدیک واقع برج الشمالی کیمپ میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے۔ تفصیلات میں ذرائع نے بتایا ہے کہ "عدے بن کعب” مسجد کی چھت کے اوپر ایک ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، اس سے پہلے کہ اس کی آگ مسجد کے گودام تک پھیلی، جس کے بعد زور دار دھماکے کی آواز آئی، جس کے بعد یکے بعد دیگرے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ذرائع کے مطابق دھماکہ گودام میں گولہ بارود کے باعث ہوا۔ برج الشمالی کیمپ کے اندر موجود ذرائع نے یونیورسٹی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دھماکے میں بڑی تعداد میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔ ذرائع نے عندیہ دیا کہ ایمبولینسیں خود بخود جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جیسا کہ اس طرح کے واقعات میں ہونا سمجھا جاتا ہے تاہم ابھی تک کسی شہید کی منتقلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی زمین پر لیٹے ایک شخص کی تصویر گردش کر رہی ہے۔ پرانا ہے اور اس کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لبنانی فوج نے اس جگہ پر حفاظتی حصار نافذ کر کے کیمپ میں داخلے اور باہر نکلنے سے روک دیا ہے۔ عدلیہ نے سکیورٹی سروسز اور دھماکہ خیز مواد کے ماہرین کو بھی اس گودام کا معائنہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے جہاں البرج الشمالی کیمپ میں دھماکہ ہوا تھا۔

© Unews Press Agency 2021

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles