مرحوم ایٹمی سائنسدان عبدالقدیر خان سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

ہزاروں پاکستانیوں نے ایٹمی سائنسدان مرحوم عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت کی جو اتوار کے روز 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔

اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خواہش کے مطابق ان کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی ۔ نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے پڑھائی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے ، نماز جنازہ کے دوران بارش بھی ہوتی رہی ۔ نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر سینیٹر صادق سنجرانی اور وفاقی وزراء سمیت سیاسی و عسکری قیادت کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 26 اگست کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا ، اس بات کی تصدیق کے بعد کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے ، لیکن انہیں صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو وسطی ہندوستان کے شہر مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 1947 میں اپنے خاندانوں کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے ۔ انہوں نے 1967 میں نیدرلینڈ کی ایک یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر بیلجیم سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے 3 صدارتی ایوارڈ جیتے ، دو مرتبہ تمغہ حسن کارکردگی اور ایک بار ہلال امتیاز حاصل کیا ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles