غاصب فوج کا فرارشدہ قیدیوں میں سے دو کو دوبارہ گرفتار کرنے کا دعوی

اسرائیلی قبضے کے ریڈیو نے گلبوہ جیل سے آزاد ہونے والے دو قیدیوں یعقوب قادری اور محمود عارضہ کو مقبوضہ ناصرت میں دوبارہ گرفتار کر لینے کا اعلان کیا ۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے کہا کہ دو قیدیوں کی گرفتاری کسی انٹیلی جنس کے کام یا آپریشنل کوشش کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ آباد کاروں کی چوکسی کا نتیجہ تھا جنہوں نے ان کو دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی ۔

صیہونی ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ گرفتار ہوئے دو فلسطینی یعقوب قادری اور محمد عارضہ ہیں جن کا تعلق فلسطین کی جہاد اسلامی تنظیم سے ہے۔

پچھلے دنوں کے دوران اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی کہ قیدیوں کے فرار کے بارے میں کوئی ٹھوس انٹیلی جنس معلومات نہیں ہیں ، نہ ہی پولیس تفتیش کاروں کو کوئی اطلاع ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی تفصیل کے مطابق تفتیش اور تعاقب کی کارروائیاں ختم ہو چکی تھی ۔

اس تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے ایک اعلی درجے کے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قیدیوں کا جیل سے فرار سنگین ناکامیوں کے سلسلے کی عکاسی کرتا ہے ۔

آج اسرائیلی قابض افواج نے جیلین کے جنوب میں اربابا اور بیر البشا قصبوں میں ان کے گھروں پر چھاپے مارنے کے بعد آزاد کیے گئے قیدیوں کے 5 خاندانوں کو گرفتار کیا ۔ قابض افواج کے طوفان کے بعد عربا قصبے میں پرتشدد تصادم ہوا ۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کی سب سے محفوظ سمجھی جانے والی ’جلبوع‘ جیل سے 6 فلسطینی قیدی سرنگ کھود کر آزاد ہونے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ انکی اس کامیابی سے جہاں فلسطین بھر میں خوشی منائی گئی ، وہیں صیہونی اتنظامیہ میں کھلبلی مچ گئی تھی ۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سرنگ کے ذریعے جیل سے آزاد ہونے والے قیدیوں میں زکریا الزبیدی ، مناضل یعقوب نفعیات ، محمد قاسم عارضہ ، یعقوب محمود قادری ، ایہام فواد کمامجی اور محمود عبداللہ عارضہ شامل تھے ۔

یاد رہے کہ اسرائیلی قابض حکام اپنی جیلوں میں تقریبا 4،850 قیدی رکھے ہوئے ہیں جن میں 41 خواتین قیدی ، 225 بچے اور 540 انتظامی قیدی شامل ہیں ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles