طالبان کا پنجشیر پر قبضے کا دعوی ، افغان اپوزیشن کی تردید

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج پیر کو اعلان کیا کہ تحریک نے صوبہ پنجشیر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جو کہ افغانستان کا آخری علاقہ ہے جو افغان اپوزیشن کے زیر کنٹرول تھا ۔

سوشل میڈیا پر تصویروں میں دیکھا گیا کہ طالبان جنگجو صوبہ پنجشیر کے گورنر کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہیں اور ساتھ ہی تحریک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد صوبہ پنجشیر کے ایک مرکز پر طالبان کا جھنڈا بلند کرنے کے مناظر دکھائے گئے ۔

اپنی طرف سے "قومی مزاحمتی اتحاد” نے پورے صوبے پنجشیر پر طالبان کے کنٹرول کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لڑائیاں ابھی جاری ہیں ۔

قومی مزاحمتی اتحاد نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ وادی میں "اسٹریٹجک پوزیشنز” پر قابض ہیں ۔ طالبان اور ان کے شراکت داروں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی ۔

شمالی افغانستان کے صوبہ پنجشیر کو کنٹرول کرنے والے اپوزیشن لیڈر احمد مسعود نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ انہوں نے "علماء کونسل” کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے کہ وہ ریاست پنجشیر میں لڑائی کو روکنے کے لیے مذاکرات کرے ۔ لڑائی ختم کرنے کے لیے طالبان ریاست سے نکل جائیں ۔

گزشتہ روز امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے خبردار کیا کہ افغانستان میں وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کا امکان ہے جو القاعدہ اور داعش یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے دوبارہ قیام کا باعث بنے گی ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles