صہیونی جیل سے فلسطینی قیدیوں کا فرار ، عبرانی میڈیا پر کھلبلی مچ گئی

آج ایک عبرانی چینل نے مقبوضہ شہر بیسان کی گلبوہ جیل سے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار کی تفصیلات شائع کیں ۔

عبرانی چینل 12 ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ جیل کے اندر ونگ نمبر 2 میں پیش آیا جو کہ اسرائیل کی سب سے مضبوط جیلوں میں سے ایک ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق سرنگ کھودنے میں کئی سال لگے ۔ 6 کاریں قیدیوں کے فرار ہونے کا انتظار کر رہی تھیں تاکہ انہیں براہ راست مغربی کنارے لے جائیں ۔

سرنگ بیت الخلا کے "سنک” کے نیچے کھودی گئی تھی اور وہ جیل کے سیوریج کے کنویں سے باہر نکلنے کے قابل تھے ۔

سب سے پہلے فرار کا پتہ لگانے والے اس علاقے میں کام کرنے والے کسان تھے ۔ انہوں نے فرار ہونے والے قیدیوں کو "چور” سمجھا اور اسرائیلی پولیس کو اس کی اطلاع دی ۔

ایک ذریعہ نے بیان کیا کہ جیل اتھارٹی کے لیے ایک انتہائی شرمناک واقعہ ہے اور اس کے لیے اس کی منصوبہ بندی ایک طویل عرصے سے اس کے بارے میں خفیہ معلومات کے بغیر تیاری میں تھی ۔

گلبوہ جیل سے فرار ہونے والے قیدوں میں 46 سالہ محمود عبداللہ اردہ ہیں جن کا تعلق ارربا سے ہے اور وہ 1996 سے عمر قید کی سزا میں زیر حراست ہیں ۔ 39 سالہ محمد قاسم اریدہ کا تعلق بھی ارربا سے ہے اور یہ بھی عمر قید کی سزا میں 2002 سے حراست میں ہیں ۔ 49 سالہ یعقوب محمود قادری کا بیر البشا سے ہے ۔ یہ بھی عمر قید کی سزا کے ساتھ 2003 سے حراست میں ہیں ۔ 35 سالہ آئمہ نایف کاماجی کا کافر دان سے ہے اور 2006 سے عمر قید کی سزا کے ساتھ حراست میں ہے ۔ 46 سالہ زکریا زبیدی کو 2019 میں سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ 26 سالہ منادیل یعقوب انفات جو کہ یاباد ہے ، 2019 سے حراست میں ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles