فرانس کی برطانیہ کو کھلی دھمکی

فرانس نے ماہی گیری کے مسئلے پر برطانیہ مخالف اپنی بیان بازی کو تیز کر دیا ہے جیسا کہ فرانسیسی وزیر اعظم جین کاسٹکس نے منگل کے روز یورپی کمیشن سے "سخت” موقف اختیار کرنے کو کہا اور لندن کے ساتھ دو طرفہ تعاون پر دوبارہ غور کرنے کی دھمکی دی ہے ۔

پارلیمنٹ میں کاسٹیکس نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ ماہی گیری کے مسئلے پر برطانیہ کے ساتھ تنازعہ پر یورپی کمیشن کی صدارت سے "رجوع” کر چکے ہیں اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "مزید آگے بڑھیں” اور لندن کے ساتھ "دو طرفہ تعلقات” پر نظر ثانی کریں ۔ یہ یاد دلاتے ہوئے کہ برسلز یہ دیکھنا چاہیے کہ معاہدے کی شرائط کا احترام کیا جاتا ہے ۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ کافی نہیں ہے تو ہم دبائیں گے اور انگریزوں کو ان کے وعدوں کا احترام کرنے پر مجبور کریں گے اور ہم یورپی یونین کے زیراہتمام ہونے والے معاہدوں میں شامل تمام شرائط پر نظر ثانی کریں گے بلکہ اگر ضروری ہوا تو دوطرفہ تعاون پر بھی ۔

لندن اور برسلز کے درمیان گزشتہ برس کے آخر میں ہونے والے بریکسٹ ڈیل کے بعد ہونے والے آخری معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ یورپی ماہی گیر کچھ برطانوی پانیوں میں اس شرط پر کام جاری رکھ سکیں گے کہ وہ لائسنس حاصل کریں جو کہ اگر وہ ثابت کر سکیں وہ پہلے وہاں مچھلی پکڑ چکے ہیں ۔

29 ستمبر کو برطانوی جزیرے جرسی نے اعلان کیا کہ فرانسیسی کشتیوں کو اس کے پانیوں میں مچھلیوں کو 64 حتمی لائسنس دیئے گئے ہیں (پیرس کی طرف سے کی گئی 169 درخواستوں میں سے) اور 75 فائلوں کو حتمی طور پر مسترد کردیا گیا ہے ۔ ایک دن پہلے لندن نے اپنے ساحل سے 6 سے 12 ناٹیکل میل کے اندر اپنے پانی میں 12 اضافی اجازت نامے دیے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles