ایندھن کے بحران ، فوجی ڈرائیوروں کو میدان میں اتارنے کا آغاز

ایندھن کی کمی کو دور کرنے کے لیے برطانوی فوجیوں کو ڈرائیوروں کے طور پر پٹرول اسٹیشنوں کی سپلائی بحال کرنے کے لیے پیر سے تعینات کیا گیا ہے ۔

ڈرائیوروں کی کمی کے باعث ایندھن کا بحران جاری ہے جس پر قابو پانے کے لیے برطانوی فوج کے دو سو اہلکاروں کو ٹینکر چلانے پر مامور کردیا گیا ہے ۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہم ایندھن کے ذخائر کی تعمیر میں مدد کے لیے فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور پورے برطانیہ میں سروس سٹیشنوں کے اسٹاک میں بہتری کے آثار ہیں جس کی مانگ مستحکم ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ لندن اور جنوبی برطانیہ میں اسٹاک کو برطانیہ کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں قدرے سست شرح سے دوبارہ تشکیل دیا جا رہا ہے لہذا ہم نے ان علاقوں میں سپلائی بڑھانے کے لیے فوجی اہلکاروں کی تعیناتی شروع کر دی ہے ۔

یاد رہے کہ تقریبا دس دن پہلے گیس اسٹیشنوں کے سامنے لمبی قطاریں لگ گئیں جنہیں ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کی وجہ سے سپلائی کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ان میں سے کچھ نے گھبرائے ہوئے ڈرائیوروں کے درمیان جھگڑا بھی دیکھا گیا ۔

واضح رہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال کوویڈ 19 کی وبا اور یورپی یونین سے برطانوی انخلا کی وجہ سے مزدوروں کی کمی کا تازہ ترین نتیجہ ہے ۔ ترسیل نہ ہونے کے باعث اشیائے خورد و نوش کی کمی کا بھی سامنا ہے ۔ برطانوی حکومت نے بیرون ملک سے فوری تین سو ڈرائیور بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم تب تک فوجی اہلکار بطور ڈرائیور کام کرتے رہیں گے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles