گزشتہ رات قابض فوج کی پرامن مظاہرے پر فائرنگ ، فلسطینی نوجوان شہید

شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ میں سینکڑوں فلسطینیوں نے ایک نوجوان شہید کا سوگ منایا جسے اسرائیلی فوج نے مشرقی سرحد کے قریب گولی مار کر شہید کیا تھا ۔

جنازے کے شرکاء نے فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے نعرے لگائے ۔

26 سالہ فلسطینی نوجوان صالح جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب لیلۃ الغضب کے نام سے ہونے والے مظاہروں میں شریک تھا کہ اسی وقت صیہونی فوجیوں نے گولی مار کر اسے شہید کردیا ۔ شہید صالح کے علاوہ 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ شب لیلۃ الغضب کے نام سے ہونے والے مظاہرے گزشتہ ہفتے سے شروع ہیں ۔

دوسری جانب اسلامی استقامتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ لیلۃ الغضب کے عنوان سے رات کے وقت مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ حماس کے سینیئر رہنما اسما‏عیل رضوان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم ہونے تک رات کے مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گ ا۔ انہوں نے گزشتہ شب پرامن مظاہرین پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا ہے کہ شہدا کا خون مظاہرین کے حوصلوں کو مزید بلند کرے گا ۔

فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف غزہ اور مقبوضہ فلسطین سے ملنے والی سرحدوں پر مظاہروں کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے ۔

شب لیلۃ الغضب مظاہرے نوجوان گروپوں کے زیر اہتمام ہوتے ہیں جو صوتی بموں کا استعمال کرتے ہیں اور ٹائر جلاتے ہیں جس کا مقصد قابض فوج اور سرحدوں کے قریب بستیوں کے رہائشیوں کو پریشان کرنا ہے ۔

گذشتہ 21 اگست کے بعد سے پٹی پر قبضے کے محاصرے کو مسلسل سخت کرنے اور گذشتہ مئی کی آخری جنگ کے بعد سے کراسنگ کی بندش کے خلاف غزہ میں فلسطینی دھڑوں نے سرحدوں پر شب لیلۃ الغضب مظاہروں کو بڑھا دیا ہے ۔

اسرائیلی فوج نے ان سرگرمیوں کا جواب براہ راست اور ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کی ڈنڈوں سے دیا جس کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ۔

یاد رہے کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی رہائش پذیر ہیں جو انتہائی خراب حالات سے دوچار ہیں ۔ 2006 میں حماس کے قانون ساز انتخابات جیتنے کے بعد سے غزہ کی پٹی مسلسل اسرائیلی محاصرے کا سامنا کر رہی ہے ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles