قطر میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات کا انعقاد

اپنی نوعیت کے پہلے قطری شوریٰ کونسل کے انتخابات آج صبح شروع ہوئے جس میں 284 امیدوار حصہ لے رہے ہیں ۔ ان میں 30 امیدواروں کو اس کونسل میں نمائندگی کے لیے منتخب کیا جائے گا ۔

قطری شہریوں نے ہفتہ کی صبح آٹھ بجے پہلی منتخب پارلیمنٹ کے ارکان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنا شروع کیا ۔

284 امیدواروں میں 28 خواتین شامل ہیں جو کل 45 میں سے 30 نشستیں جیتنے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں ۔ قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے 45 میں سے 15 ارکان کا تقرر کیا ہے اور باقی نشستوں کے لئے انتخابات ہو رہے ہیں ۔

ووٹنگ کے عمل کی تیاری میں انتخابی خاموشی کے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے امیدواروں کی انتخابی مہم دو ہفتوں کی مدت کے لیے وسط ستمبر سے شروع ہوئی ۔

29 جولائی کو قطر کے امیر نے شوریٰ کونسل کا انتخابی قانون جاری کیا جس کے تحت کونسل کی رکنیت براہ راست خفیہ رائے شماری کے ذریعے بنائی گئی ۔

شوریٰ کونسل قطر کا قانون ساز ادارہ ہے جس کا ایک کام یہ ہے کہ اس پر بحث کی جائے کہ اس کو وزیروں کی کونسل نے کیا کہا ہے ، جیسے مسودہ قوانین ، سیاسی ، معاشی اور انتظامی پہلوؤں میں ریاست کی عمومی پالیسی ، اور مسودہ بجٹ بڑے عوامی منصوبوں کے لیے تاکہ وہ ان مسائل پر سفارشات پیش کرے ۔

واضح رہے کہ قطر میں پہلی بار الیکشن کے انعقاد کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے تاہم الیکشن میں خواتین امیدواروں کی تعداد نہایت کم ہونے کا شکوہ بھی کیا جا رہا ہے ۔

یاد رہے کہ قطر کی شہریت کے اہل صرف وہی افراد ہوتے ہیں جن کے والد کا تعلق قطر سے ہو ۔ اگر قطری خاتون نے کسی اور ملک کے شخص سے شادی کی ہو تو ان کے بچوں کو نہ تو شہریت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہ زمین خریدنے اور ریاست کی دیگر سہولیات حاصل کرنے کے اہل رہتے ہیں ۔

مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
مواضيع ذات صلة
Related articles